نئی دہلی،02 ؍فروری ( ایس او نیوز؍آئی این ایس انڈیا) پونے کی ایک عدالت نے بھیما کورے گاؤں تشدد کے معاملے میں گرفتار آنند تیل تبڑے کو رہا کرنے کا حکم دیا ہے۔
عدالت نے ان کی رہائی کا حکم دیا ہے ،کورٹ نے اس گرفتاری کوغیرقانونی قراردیاہے۔آپ کو بتا دیں کہ پونے پولیس نے دلت اسکالرآنند تیل تبڑے کو ہفتے کی صبح ممبئی ایئرپورٹ سے گرفتار کیا تھا۔جمعہ کو پونے سیشن کورٹ نے آنند کی متوقع ضمانت کی درخواست مسترد کردی ہے۔پونے سیشن کورٹ نے جمعہ کو تیل تبڑے کے خلاف کافی مواد کا حوالہ دیتے ہوئے گرفتاری سے پہلے ضمانت عرضی دینے سے انکار کر دیا تھا۔
ایڈیشنل سیشن جج کشور وڈانے نے فیصلہ سنانے کے دوران کہا تھا کہ میرے خیال میں تفتیشی افسر کی طرف سے جرم کے مبینہ معاملے میں موجودہ ملزم کے ملوث ہونے کے اظہار کے لئے کافی مواد جمع کیا گیا ہے۔اس کے علاوہ موجودہ الزامات کے سلسلے میں تحقیقات بہت اہم قدم ہے۔آنند تیل تبڑے کو ممبئی کے ولی پارلے پولیس اسٹیشن میں رکھا گیا تھا۔بتا دیں کہ چند ماہ قبل پونے پولیس نے تیل تبڑے کی گوا واقع رہائش گاہ پر بھی چھاپہ ماری کی تھی، جس میں پولیس کو آنند کے پاس سے کئی اہم ثبوت ملے تھے۔2017میں کورے گاؤں بیمہ تشدد کے سلسلے میں ان کے خلاف ایف آئی کو منسوخ کرنے کے لئے سپریم کورٹ کی درخواست کو مسترد کرنے کے بعدتیل تنبڑے نے پونے کورٹ کو گرفتاری سے بچنے کے لئے رابطہ کیا تھا۔